نئی دہلی،23اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)دہلی حکومت میں وزیر کپل مشرا نے سوشل میڈیا پر خود کے نام اور تصویر سے چل رہا ہے بہت سے فرضی اکاؤنٹ کی شکایت،وزیر داخلہ اور دہلی پولیس کمشنر کو خط لکھ کر کی ہے۔کپل مشرا نے خط میں لکھا ہے کہ فرضی اکاونٹ کے ذریعے ذات اورمذہبی تشدد بھڑکانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔وزیر نے خط میں ذکر کیا ہے کہ کس طرح فرضی اکاؤنٹ سے پوسٹ کی جاتی ہے اور پھر انہیں انٹرنیٹ کے ذریعے وائرل کیا جاتا ہے۔کپل مشرا نے ہندوستان میں فیس بک اور ٹوئٹر کے سربراہ کو بھی یہ خط بھیجا ہے۔ساتھ ہی پولیس کمشنرسے فرضی اکاونٹ کی تفصیلات دیتے ہوئے جانچ کی مانگ کی ہے۔کپل مشرا کے مطابق ٹوئٹرپر ان کے نام کےkapilmishraAPPاورJalMantriفرضی ٹوئٹر ہینڈل ہیں جبکہ فیس بک میںUnofficial KapilMishraاورKapilMishraG فرضی اکاونٹ ہیں۔کپل مشرا کا کہنا ہے کہ کچھ لوگوں نے منظم طریقے سے جن کے پیچھے کافی ساری ٹیم اور پیسہ لگا ہوا ہے، وہ ذات یا مذہبی تشدد بھڑکانے کے لئے فرضی پروفائل کا استعمال کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے وزیر داخلہ اور پولیس کمشنر کو خط لکھا ہے، تاکہ ایسے لوگوں کے آئی پی ایڈریس اور کہاں بیٹھ کر یہ لوگ غلط چیزوں کو انجام دے رہے ہیں وہ پتہ لگایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ بہت بڑی فنڈنگ نیٹ ورک اور گینگ ہیں جو اس کے پیچھے لگا ہوا ہے جو ملک میں تشدد بھڑکانا چاہتا ہے۔آگے کپل نے بی جے پی پر الزام لگاتے ہوئے کہاکہ کچھ لوگوں کے فون نمبر بھی میرے پاس آئے ہیں جو وہاٹس ایپ سے ایسی واردات کو انجام دے رہے ہیں۔تحقیقات کے لیے یہ نمبر پولیس کمشنر کو سونپیں گے۔یہ دہلی ہی نہیں پورے ملک کی پریشانی ہے۔جھوٹی پوسٹ سے فسادات کا، حملوں کاماحول بنانے کی سازش لگتی ہے۔کپل مشرا نے الزام لگایا کہ زیادہ تر لوگ جو اس پروفائلز اسٹاک کر رہے ہیں وہ بی جے پی کے عہدیدار ہیں۔